ابنا: پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے ٹیلیوژن پر قوم سے اپنے پہلے خطاب میں تحریک طالبان سے عام شہریوں کے قتل وخونریزي کو روکنے لئے گفتگو کی دعوت دی ہے ۔نواز شریف نے پاکستان کی تمام سیاسی اور مذھبی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ ملک کو درپیش اقتصادی اور سیکورٹی مشکلات کے حل کے لئے حکومت کے ساتھ گفتگو کریں ۔ پاکستانی وزیر اعظم نے مزید کہا ہے کہ گفتگو کی پالیسی صرف جماعتوں اور پارٹیوں تک محدود نہيں ہے انھوں نے انتہا پسند تمام گروہوں کو بھی دعوت دی ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ گفتگو کی راہ کو اختیارکریں ۔ایک عشرے سے زيادہ عرصے کے دوران سرکاری فورسز اور حکومت مخالف گروہوں کے درمیان جاری جھڑپ میں ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں ۔ نواز شریف نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکہ کے ڈرون طیاروں کے حملوں کو پاکستان کی قومی حاکمیت اور ارضی سالمیت اور خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے بارہا واشنگٹن سے ڈرون حملوں کوبند کرنے کو کہا ہے ۔ نواز شریف نے مسئلہ کشیمر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ پاکستانی اور ہندوستانی حکام کو چاہئيے کہ وہ گفتگو کے ذریعہ مسائل کو حل کریں ۔سیاسی مبصرین کی نظر میں نواز شریف نے ٹی وی پر قوم سے خطاب میں جن مسائل کو بیان کیا ہے وہ حکومت اورملت پاکستان کے لئے اہم اوربنیادی ترین چیلنچز شمار ہوتے ہیں ۔ اس وقت پاکستان کے لئے سب سے زیادہ بنیادی مسئلہ جس نے پاکستان کے تمام مسائل کو متائثر کررکھا ہے وہ اس ملک میں جاری خونریز اور تشدد آمیز واقعات ہیں۔ تشدد اور بدامنی کے خاتمے کے لئے پاکستان کے مدنظر دو حکمت عملی یعنی فوجی مقابلہ اور عسکریت پسندوں کے ساتھ گفتگو ومذاکرات ہیں ۔ چنانچہ فوجی کاروائی پر دو برس قبل عمل ہوچکا ہے جو نتیجہ بخش ثابت نہیں ہوا ، نواز حکومت سیاسی اورمذھبی تمام جماعتوں اور پارٹیوں کی مشارکت کے ساتھ سیاسی راہ حل پر تاکید کرتی ہے ،اس سلسلے میں قومی نشست کے لئے کوشش جاری ہے ۔ یہ نشست نواز شریف کے لئے اس لئے زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ یہ نشست تشدد پسند اور دہشت گرد گروہوں کے ساتھ فوجی آپریشن کے سلسلے کو ختم کرکے اسے ایک قومی مسئلے میں تبدیل کرسکتی ہے ۔پاکستان کے خفیہ اداروں کو بھی اسی پالیسی کے تحت کام کرنا چاہئيے ۔ حکومت کی پالیسی اور حکمت عملی یہ ہےکہ دہشت گردی سے مقابلے کے لئے قومی اجماع پیداکیاجائے ۔اسی لئے نواز شریف نے قوم کے خطاب میں پاکستان کی سیاسی اور مذھبی تمام جماعتوں اور پارٹیوں سے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی سے مقابلے کے لئے قومی حکمت عملی اپنانے کے سلسلے میں حکومت کی مدد کریں۔منجملہ ان گروہوں میں عمران خان کی تحریک انصاف پارٹی ہے جس کے بارے میں ایسا نظر آتاہے کہ اس نے اس قومی نشست میں شرکت کے لئے اپنی مکمل طورپر آمادگی کااعلان نہیں کیا ہے ۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ٹیلیوژن پر قوم سے خطاب کرنے سے پہلے نواز شریف اور فوج کے سربراہ پرویز اشفاق کیانی کی ملاقات سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں نے ملک میں جاری دہشت گردی اور حالیہ بدامنی سے نمٹنے کے لئے اپنے منصوبوں کے بارے میں گفتگو کی ہے جو ملت پاکستان کے لئے اچھا اورخوش آیند پیغام ہوسکتا ہے ۔بہرحال چونکہ گیارہ مئی کے انتخابات میں مسلم لیگ نواز پارٹی نےپاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے اور امن قائم کرنے کا نعرہ لگايا تھااس لئے اس پارٹی کے سربراہ اور پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو اس پرعمل درآمد کے سلسلے میں سنگین ذمہ داری کا سامنا ہے ۔
.......
/169